بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کا بغیر سنتیں پڑھے فجرکی نماز پڑھانا

سوال

سنتوں کے لیے  وقت نہ ہونے کی صورت میں امام نے سنت پڑھے بغیر فجر کی نماز پڑھائی تو کیا حکم ہے؟  

جواب

 امام سنتیں پڑھے بغیر فرض نماز پڑھا سکتا ہے، البتہ نماز مکروہ نہ ہوگی، اشراق کا وقت ہوجانے پر  فوت شدہ سنتیں پڑھ لے۔  تاہم اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ پہلے سنتوں کا اہتمام کرے، اگر کبھی جماعت کا وقت ہوجائے اور امام نے سنتیں نہ پڑھی ہوں تو مقتدی امام کو سنتوں کی ادائیگی کاموقع دیں  ، حدیث شریف میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آں حضرتﷺاگر ظہر سے پہلے چار سنتیں نہیں پڑھ سکتے تھے تو بعد میں پڑھ لیا کرتے تھے(اور ظاہر ہے آں حضرتﷺہی امام ہوا کرتے تھے)۔

"عن عائشۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلمکان اذا لم یصل اربعاً قبل الظھرصلاھن بعدھا"۔ (ترمذی ج۱ ص ۵۷ باب ماجآء فی الرکعتین قبل الظھر ورکعتین

بعد ھا)

مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : کفایت المفتی 125/3،فتاوی رحیمیہ 129/4،خیرالفتاوی 331/2،احسن الفتاوی 286/3۔ فقط و ﷲ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200675
تاریخ23-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں