بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

علاتی چچا، اخیافی بہن بھائی اور سگی اور علاتی پھوپھیوں میں میراث کی تقسیم

سوال

میت کی ماں، باپ، بیوی بچے نہیں، ایک علاتی چچا اور علاتی پھوپھی، اخیافی بہن، ایک اخیافی بھائی اور دو سگی پھوپھی ہیں، وراثت کیسے تقسیم ہوگی ؟

جواب

صورت مسئولہ میں  مرحوم کی وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد ، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی  قرض   ہو اسے ادا کرنے کے بعد،اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ میں سے نافذ کرنے کے بعد، باقی کل ترکہ کو 6 حصوں میں تقسیم کرکے مرحوم  کے اخیافی بھائی کو ایک حصہ (16.66 %)  ، اخیافی بہن کو ایک حصہ (16.66 %) اور علاتی چچا کو /4 حصے (66.67 ٪) ملیں گے، مرحوم کی سگی اور علاتی پھوپھیوں کو میراث میں سے حصہ نہیں ملے گا۔ فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200670
تاریخ23-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں