بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کرسی پر بیٹھ کر سونے سے وضو کا حکم

سوال

کرسی میں بیٹھ کر سونے سے وضو  کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر کرسی پر سونے والے نے ہاتھ یا کمر سے  ٹیک لگائی ہوئی ہے اس طرح کہ اس ٹیک کو ہٹادیا جائے تو وہ گر جائےتو اس حالت میں سونے سے وضو ٹوٹ جائے گا اور اگر وہ کرسی پر ٹیک لگائے بغیر  سیدھا بیٹھا ہے اور اس کی آنکھ لگ گئی تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 141):
’’(و) ينقضه حكماً (نوم يزيل مسكته) أي قوته الماسكة بحيث تزول مقعدته من الأرض، وهو النوم على أحد جنبيه أو وركيه أو قفاه أو وجهه (وإلا) يزل مسكته (لا) يزل مسكته (لا) ينقض وإن تعمده في الصلاة أو غيرها على المختار كالنوم قاعداً ولو مستنداً إلى ما لو أزيل لسقط على المذهب‘‘
۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200628
تاریخ20-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں