بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 جُمادى الأولى 1448ھ 29 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کرایہ کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں جرمانہ لینا

سوال

مکان کرایہ پر دیا ہوا ہے دس ہزار روپے ماہانہ، اور بوقتِ معاہدہ یہ طے کیا کہ اگرمقررہ وقت پر کرایہ ادا  نہ کیا تو یومیہ 100 روپیہ کرایہ دار جرمانہ ادا کرے گا۔  آیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ سود کے زمرے میں تو نہیں آتا؟ جرمانہ وصول کرچکے ہیں، اس کا کیا حکم ہے شریعت کے رو سے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں کرایہ ادا کرنے میں تاخیر کی صورت میں جرمانہ وصول کرنا شرعاً جائز نہیں۔  اور اب تک جتنا جرمانہ وصول کرلیا ہے وہ کرایہ دار کو واپس کرنا ضروری ہے ۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200604
تاریخ19-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں