بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ سے شادی کے بعد اس کو میت کی مطلقہ ظاہرکرنا

سوال

ایک مرد نے ایک بیوہ  عورت سے شادی کرلی، شادی کے بعد اب مرد سے جب بھی  کوئی عورت کے پہلے شوہر کا پوچھتا ہے  کہ اس عورت کا  پہلا شوہر کہاں ہے؟  تو جس مرد نے اب اس عورت سے شادی کی ہے  وہ لوگوں کو یہ نہیں بتاتا کہ وہ پہلے بیوہ تھی، بلکہ وہ یہ بتاتا ہے کہ  ان کی (یعنی اس کے پہلے شوہر اور عورت کی) طلاق ہوگئی ہے،  یا یہ بتاتا ہے کہ اس کو (یعنی اس کے پہلے شوہر نے) اسے طلاق دے دی تھی، تو کیا ایسا بتانے سے اب اس شوہر اور بیوی کے رشتہ میں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا؟

جواب

( یہ شخص ایسا کیوں کہتا ہے؟ اس کی کیا ضرورت ہے اور کیا مقصد ہے؟  سوال میں آپ نے یہ واضح نہیں کیا ہے، اصولی جواب درج ذیل ہے:)

 اگر مذکورہ شخص نے واقعۃً  اس عورت کے شوہر کے انتقال کے بعد ، اس کی عدت پوری ہونے کے بعد ، نکاح کیا تھا تو یہ نکاح درست ہوگیا ہے، اب لوگوں کے سامنے وہ اس عورت کو "بیوہ" ظاہر کرنے کے بجائے "مطلقہ" ظاہر کرتا ہے تو اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، البتہ یہ جھوٹ اور دروغ گوئی ہے،جو کبیرہ گناہ ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200600
تاریخ19-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں