کسی بچے کو گود لینا جائز ہے
سوال
کیا ایک بھائی اپنےدوسرے سگے بھائی کو جو کہ شادی شدہ ہے اپنا نو مولود بیٹا یا بیٹی گود دے سکتاہے؟
جواب
نومولود بچے کو گود دینا یاکسی بچی کو گودلیناجائز ہے اور درست ہے، نیز ایک بھائی کا دوسرے بھائی کو اپنابچہ گود دینابھی جائز ہے، البتہ ایسےلے پالک بچوں کے حوالہ سے قرآنِ کریم کا فرمان یہ ہے کہ ان کو ان کے اصل والد کے نام کے سے ہی منسوب رکھا جائے اس میں رد و بدل نہ کیا جائے، اور اگرکسی لے پالک کے والد کا علم نہ ہو تب بھی ان کی ولدیت تبدیل نہ کی جائے اور ان کو اپنا بھائی یا دوست قرار دیا جائے، جیساکہ سورۂ احزاب میں ہے:
﴿ اُدْعُوهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ ۚ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوْا اٰبَآءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ وَمَوَالِيكُمْ ۚ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا﴾ (الأحزاب: ٥)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

