بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی بچے کو گود لینا جائز ہے

سوال

کیا ایک بھائی اپنےدوسرے  سگے بھائی کو جو کہ شادی شدہ ہے اپنا نو مولود بیٹا یا بیٹی گود دے سکتاہے؟

جواب

نومولود بچے کو گود دینا یاکسی بچی کو گودلیناجائز ہے اور درست ہے، نیز ایک بھائی کا دوسرے بھائی کو اپنابچہ گود دینابھی جائز ہے، البتہ   ایسےلے پالک  بچوں کے حوالہ سے قرآنِ کریم  کا فرمان یہ ہے کہ ان کو ان کے اصل والد کے نام کے سے ہی منسوب رکھا جائے اس میں رد و بدل نہ کیا جائے، اور اگرکسی لے پالک کے  والد کا علم نہ ہو تب بھی ان کی ولدیت تبدیل نہ کی جائے اور ان کو اپنا بھائی یا دوست قرار دیا جائے، جیساکہ سورۂ احزاب میں ہے:

﴿ اُدْعُوهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ ۚ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوْا اٰبَآءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ وَمَوَالِيكُمْ ۚ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا﴾ (الأحزاب: ٥)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200596
تاریخ18-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں