بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مونچھوں کا کھانے پینے کی چیزوں میں لگنا

سوال

کیا کوئی اس طرح کی بات ثابت ہے کہ مونچھوں کےبال جوہونٹوں پر آجائیں اور وہ کسی کھانےنےپینے کی چیزوں میں لگیں تووہ چیزیں مکروہ ہوجاتیں ہیں؟

جواب

مونچھ کے بال کاٹنااور ناخن تراشناوغیرہ یہ چیزیں امورِفطرت میں سے ہیں، انہیں بڑھاناشریعت میں پسندیدہ نہیں ہے، مونچھوں کااتنا بڑاہوناکہ وہ کھانے پینے کی اشیاء میں لگ رہی ہوں شرعاً درست نہیں ہے، اوراتنی بڑی مونچھیں رکھنا شرعاً گناہ ہے،چناں چہ  حدیث میں آتا ہے:

ترجمہ:''آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : جو شخص مونچھیں نہیں تراشتا وہ ہم میں سے نہیں''۔(مشکاۃ ص:۳۸۱)

نبی کریم ﷺ کا معمول مونچھیں خوب کترنے کا تھا، اس لیے مونچھیں اچھی طرح کتروانا سنت ہے۔

البتہ اگر مونچھیں بڑی ہونے کی وجہ سے کھانے یاپینے کی چیز میں لگ جائیں تو اس سے وہ کھانے یاپینے کی چیز مکروہ نہیں ہوتی، لیکن ایک مسلمان کو اپنے نبی سرکاردوعالم ﷺکی اقتدا کرتے ہوئے داڑھی بڑھانی چاہیے اور مونچھیں کتروانی چاہییں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144001200588
تاریخ18-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں