بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آفس سے ملنے والے موبائل اور بیلنس کو اپنے ذاتی استعمال میں لانا

سوال

مجھے آفس سے موبائل ملا ہوا ہے اور سم بھی، 2000 کی سم لِمٹ limit ہے، اب میں صرف آفس کے استعمال کے لیے رکھوں تو 2000 استعمال نہیں ہوتے تو میں پرسنل میں ذاتی کال  بھی کرلیتا ہوں ،  شریعت کی روشنی میں راہ نمائی فرمادیں۔

جواب

1۔۔اگر آفس والے  آپ کو یہ سہولت  آپ کے  ذاتی استعمال  کے لیے دیتے ہیں یعنی یہ آپ کی تنخواہ کا حصہ ہو تو آپ کی مرضی جس طرح چاہیں استعمال کریں۔

2۔۔  یہ سہولت صرف آفس کے کام کے لیے ملی ہو، یعنی آفس والے یہ کہہ کر دیں کہ یہ صرف آفس کے کام کے لیے دیے جاتے ہیں تو اس صورت میں آپ اسے اپنے ذاتی استعمال میں نہیں لاسکتے، اگرچہ یہ مکمل 2000 روپے آفس کے کام میں استعمال نہ ہوں اور بچ جائیں۔

3۔۔ یہ سہولت آپ کو آفس اور ذاتی استعمال دونوں کے لیے دی گئی ہو، تو اس صورت میں آپ اسے آفس اور ذاتی دونوں کاموں میں استعمال کرسکتے ہیں۔

4۔۔ آفس والے یہ کہیں کہ یہ سہولت آفس کے کام کے لیے ہے، لیکن اگر اس میں سے کچھ  بچ جائے تو آپ استعمال کرسکتے ہیں تو اس صورت میں بھی آپ باقی ماندہ کو اپنے ذاتی کام میں لاسکتے ہیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200533
تاریخ13-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں