بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مہندی، اپٹن وغیرہ رسومات کا حکم

سوال

مہندی، اپٹن وغیرہ رسومات کی گنجائش ہے؟ اگر ہے تو ان کا حکم کہاں ہے؟ اور اگر نہیں ہے تو ان رسومات کی کیا حیثیت ہے؟ آیا حرام ہیں ناجائز ہیں؟

جواب

دینِ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اس میں غمی و خوشی ہر طرح کے حالات کے لیے مستقل احکامات دیے گئے ہیں،  اور ایک مسلمان کا فرض ہے کہ غمی ہو یا خوشی کسی حال میں بھی اپنے دین کے احکامات سے رو گردانی نہ کرے، بلکہ اپنی ہر خوشی و غم کے موقع پر اللہ تعالیٰ کے حکم کو سامنے رکھ کر اس پر چلنے کی پوری کوشش کرے، چناں چہ شادی بیاہ وغیرہ کے موقع پر آج کل جو رسومات رائج ہیں وہ صرف یہی نہیں کہ ہندوانہ ہیں، بلکہ کئی دیگر  گناہوں اور قباحتوں(اسراف  مال،مردوعورت اختلاط،موسیقی اور شور ہنگامہ) پر مشتمل ہونے کی وجہ سے واجب الترک ہیں۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

http://www.banuri.edu.pk/readquestion/%D8%B4%D8%A7%D8%AF%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%B3%D9%85%DB%8C%DA%BA/01-01-2018

نیز درج ذیل لنک:

http://www.banuri.edu.pk/readquestion/%D9%85%D8%A7%DB%8C%D9%88%DA%BA-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%85%DB%81%D9%86%D8%AF%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D8%AD%DA%A9%D9%85/01-01-2018

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200502
تاریخ10-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں