بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت حیض و نفاس کی حالت میں بچوں کو پڑھا سکتی ہے یا نہیں ؟

سوال

ہم بچوں کو گھر میں خود سپارہ پڑھا تے ہیں تو کیا حیض و نفاس کی حالت میں بھی بچوں کو پڑھا سکتے ہیں یا نہیں؟ اور کیا سپارہ  بچوں کو اتار کر بھی دے سکتے ہیں ، مطلب ہاتھ لگا سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

دورانِ ماہواری عورت کے لیے قرآن کریم کی تلاوت منع ہے۔البتہ تعلیمی ضرورت کی وجہ سے ایک آیت کی مقدار سے کم پڑھ کرسانس چھوڑ دینے کی حد تک فقہاءِ کرام نے جواز کا لکھا ہے، لہٰذا معلمہ طالبات کو پڑھائے یا خود طالبہ پڑھے تودرمیانِ آیت سانس توڑ دیا کریں۔

باقی سپارے سے مراد اگر قرآن مجید کا سپارہ ہے تو قرآن مجید کو  براہ راست بغیر غلاف کے  ہاتھ لگانا اس حالت میں جائز نہیں۔ ہاں قاعدہ اور نماز کی کتاب وغیرہ  کو ہاتھ لگایا جاسکتا ہے۔ حاشية رد المختار على الدر المختار (1/ 293):
’’( وقراءة قرآن ) أي ولو دون آية من المركبات لا المفردات؛ لأنه جوز للحائض المعلمة تعليمه كلمةً كلمةً، كما قدمناه وكالقرآن التوراة والإنجيل والزبور ... (ومسه) أي القرآن ولو في لوح أو درهم أو حائط، لكن لا يمنع إلا من مس المكتوب، بخلاف المصحف؛ فلا يجوز مس الجلد وموضع البياض منه، وقال بعضهم: يجوز، وهذا أقرب إلى القياس، والمنع أقرب إلى التعظيم، كما في البحر، أي والصحيح المنع كما نذكره، ومثل القرآن سائر الكتب السماوية كما قدمناه عن القهستاني وغيره‘‘. 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200500
تاریخ10-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں