بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کی نوکری اور کمائی کا حکم

سوال

کیا عورت کی نوکری جائز ہے؟

اسلام میں عورت کی کمائی حلال ہے یا حرام؟

جواب

۱) دینِ اسلام کی رو سے عورت کے لیے بلا ضرورت نوکری کے لیے گھر سے باہر نکلنا بالکل بھی پسندیدہ نہیں ہے، کیوں کہ یہ بہت سی خرابیوں اور مفاسد کا باعث بنتا ہے، البتہ ضرورتِ شدیدہ کی وجہ سے اگر عورت مکمل پردہ کے ساتھ نوکری کے لیے گھر سے نکلے  تو اس کی گنجائش ہے، لیکن صرف شوقیہ اور بغیر پردے کے عورتوں کا دفتروں میں کام کرنا ، اور مردوں کے ساتھ اختلاط کرنا شریعت مطہرہ کی نظر میں جائز نہیں ہے۔

۲)عورت کی کمائی کے حلال یا حرام ہونے کا دار و مدار اس کے کام کی نوعیت پر ہے، اگر کام حلال ہے تو اس کے بدلے ملنے والی کمائی بھی حلال ہوگی اور  اگر کام حرام اور گناہ کا ہے تو اس کے بدلہ میں ملنے والی کمائی بھی حرام ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200490
تاریخ09-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں