بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حکومتی فنڈز کو اپنے ذاتی کاموں میں استعمال کرنا

سوال

زید نے خود کو اپنی سیاسی پارٹی اور اپنے اہلِ علاقہ کی خدمت کے لیے کئی سالوں سے فارغ کیا ہے، اور کئی سال سے اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے کوئی خدمت نہ کر سکا، بلکہ اپنا ذاتی بہت سارا سرمایہ بھی سیاسی اور اہلِ علاقہ کی خدمت میں صرف کر چکا ہے ،جس کی وجہ سے زید کافی مقروض ہوچکا ہے، اب اگر زید کو پارٹی کے توسط سے حکومتِ وقت کچھ صواب دیدی فنڈز  اہلِ  علاقہ کی خدمت کے لیے دے تو کیا زید اس رقم میں سے کچھ رقم اپنے ذاتی کاموں میں خرچ کر سکتا ہے؟ اس نیت کے ساتھ  کہ جب میرے پاس ذاتی رقم آجائے تو لی ہوئی رقم صواب دیدی فنڈ میں لوٹا دوں گا؟

جواب

زید کے لیے جائز نہیں کہ وہ حکومت کی جانب سے دیے گئے صواب دیدی فنڈز میں سے کچھ اپنے ذاتی کاموں میں خرچ کرے ، اگرچہ اس کی نیت یہ ہو کہ بعد میں یہ رقم لوٹا دوں گا، کیوں کہ جو رقم اسے دی جارہی ہے وہ اہلِ  محلہ کی امانت ہے، اس میں خیانت کرنا سخت گناہ ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200481
تاریخ09-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں