بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میرب،حورب،میرال ناموں کے مطالب

سوال

میرب،حورب،میرال نام کیسے ہیں؟

جواب

1۔ "میرب" عربی زبان میں"ارب" سے ماخوذ ہے، اس کے ماخذ کے اعتبار سے اس کے مختلف معانی ہوسکتے ہیں: جسم کاٹنے کا آلہ، حاجت پوری کرنے کا آلہ، ہوشیار اور ماہر۔

اگر بچی کا نام رکھنا ہے تو بہتر ہے کہ میرب کی بجائے "اَریبہ" نام رکھ لیا جائے اور لڑکے کا نام رکھنا ہے تو "اریب" نام رکھ لیں، اس صورت میں معنیٰ متعینہ طور پر "ہوشیار" اور "ماہر" ہوگا۔

2۔۔  "میرال":  عربی لغات میں تلاش کے باوجود کسی مناسب معنی کے لیے اس  کا استعمال نہیں ملا۔ لہٰذا یہ نام نہ رکھا جائے، البتہ اگر کسی اور زبان کا لفظ ہے تو باحوالہ کسی مستند عالم کو دکھا کر حکم معلوم کرلیاجائے۔

3۔۔۔ "حورب" عبرانی زبان کا لفظ ہے اور "حورب" اس پہاڑ کا نام ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پہلی مرتبہ شریعت دی گئی تھی جس کا دوسرا اور مشہور نام "سیناء" ہے، بہرحال بہتر یہ ہے کہ اپنے بچوں کے نام انبیاء کرام علیہم السلام یا صحابہ کے نام پر رکھے جائیں یا ایسا نام رکھیں جس کے معنی اچھے ہوں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200477
تاریخ09-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں