بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وضو کا بچا ہوا پانی پینے کا حکم

سوال

وضو کا بچا ہوا پانی پینا کیسا ہے؟

جواب

ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وضو فرمایا اور وضو کے بعد بچا ہوا پانی کھڑے کھڑے پی لیا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی فرمایا تھا، اس حدیث کی رو سے  فقہاء نے وضو کے بعد  بچا ہوا پانی پینا وضو کے آداب میں سےلکھا ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 129)
"(ومن آدابه) ... وأن يشرب بعده من فضل وضوئه) كماء زمزم (مستقبل القبلة قائماً) أو قاعداً".

الفتاوى الهندية (1/ 8)
"(وها هنا سنن وآداب ذكرها المشايخ) ........ وأن يشرب قطرةً من فضل وضوئه مستقبل القبلة قائماً".
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200470
تاریخ08-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں