بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صاحبِ نصاب بیوہ کو زکاۃ دینے کا حکم

سوال

ایک بیوہ ہے، اس کے تین بچے ہیں، وہ کوئی نوکری نہیں کرتی، کوئی ذریعہ آمدن بھی نہیں ہے، اس کے پاس سونا موجود ہو جو نصاب تک پہنچتا ہو، تو ہم اس کو زکاۃ دے سکتے ہیں یا نہیں؟اگر نہیں تو اس کی کس طرح مدد کر سکتے ہیں؟

 

جواب

اگر مذکورہ بیوہ کے پاس نصاب کے بقدر سونا موجود ہے جیسا کہ سوال میں ذکر ہے  تو ان کو زکاۃ  کی رقم دینا جائز نہ ہو گا،  پھر  اگر وہ تعاون کی محتاج ہوں تو زکاۃ  کے علاوہ دیگر نفلی صدقات سے ان کی مدد کی جا سکتی ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 47)
"وأما صدقة التطوع فيجوز صرفها إلى الغني؛ لأنها تجري مجرى الهبة".
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200464
تاریخ08-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں