بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہمیشہ دودن ماہواری آئے تو کیا حکم ہوگا؟

سوال

ایک عورت کو ماہواری ہمیشہ دو دن آتی ہے تو کیا یہ حیض میں شمار ہوگی؟

جواب

حیض کی کم از کم مدت تین دن ہے، اس سے کم  حیض نہیں ہوتا، لیکن اس پوری مدت میں لگاتار خون کا نظر آنا ضروری نہیں, بلکہ پہلے دو دن خون آیا اور پھر  چار دن بعد خون آیا تو  تمام چھ دن ہی حیض کے ہوں گے،البتہ اگر ہمیشہ دو دن آتا ہے اور پھر  دس دن کے مکمل ہونے تک خون نہیں آتا تو اس صورت میں وہ خون استحاضہ  ہی کے حکم میں ہے۔ اس دوران جو نمازیں نہیں پڑھیں ان  کی نمازیں قضا کرنی ہوگی۔

’’ أقل الحیض ثلا ثة أیام ولیالیها ومانقص من ذٰلک فهو استحاضة‘‘. (الهداية ۱؍۶۲)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 285):
’’(والناقص) عن أقله(والزائد) على أكثره أو أكثر النفاس أو على العادة وجاوز أكثرهما. (وما تراه) صغيرة دون تسع على المعتمد وآيسة على ظاهر المذهب (حامل) ولو قبل خروج أكثر الولد (استحاضة)‘‘.
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200462
تاریخ08-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں