بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

oyester والی دوا کا حکم

سوال

Oyster Extract والی   دوائیاں کھانا حلال ہے؟

جواب

Oyster  سمندر کے اندر پائے جانے والی سیپی کے اندر ایک جانور ہوتا ہے جو کہ نرم ہوتا ہے اور اس میں ہڈی بھی ہوتی ہے، جو کہ مختلف امراض کے علاج کے لیے مفید ہے اور  اس سے کئی دوائیاں بنائی جاتی ہیں۔

یہ کیڑا مچھلی نہیں ہے۔ لہذا احناف کے ہاں اس کا کھانا حلال نہیں، البتہ کوئی ایسی بیماری جس کا علاج نہ کرنے کی صورت میں جان یا عضو جانے کا خطرہ ہو یا مرض بہت زیادہ بڑھنے کا اندیشہ ہو اور  کوئی متبادل دوا نہ ہو، اور اس پر مشتمل دوا کسی ماہر  دین دار طبیب نے تجویز کی ہو تو اس کا استعمال درست ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200460
تاریخ08-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں