بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

باپ کے ہنر سے فروغ دیے ہوئے کاروبارمیں دیگر ورثاءکا حصہ

سوال

 باپ کی طرف سے کوئی ہنر ملا، پھر  ٣ بیٹوں میں سے ایک نے اُس ہنر کا استعمال کرتے ہوئے باپ کے کاروبار کو فروغ دیا ، factory قائم کی، properties لیں، اب وہ دو بیٹے تمام جائیداد میں سے برابر کا حصہ مانگیں تو اس کا کیاحکم ہے ؟

جواب

سیکھا ہوا ہنر تو انسان کی اپنی صلاحیت ہے، اس میں کسی کی شراکت نہیں ہوسکتی؛ اس لیے اگر بیٹے نے باپ کے اثاثوں اور ملے ہوئے کاروبار کے علاوہ الگ سے کاروبار کیا اور کمایا تو وہ صرف اسی بیٹے کا ہے، صرف ہنر سیکھنے کی وجہ سے جائے داد میں حصہ مانگنے کا مطالبہ درست نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200459
تاریخ07-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں