بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق دینے میں شک

سوال

طلاقِ معلق میں لفظِ طلاق کہنے میں شک آجائے کہ یہ لفظ بولا ہے یا نہیں، یعنی الفاظِ تعلیقات بولے ہیں، لیکن لفظِ طلاق بولنے میں شک ہے ۔ ذہن کو زور دینے سے نہ بولنے کا پہلو کبھی کبھی راجح ہوجاتا ،ہے لیکن شک سے خالی نہیں ۔ یقیناً کسی پہلو کی ترجیح حاصل نہیں ، اس مسئلے کو حل کردیجیے۔

جواب

جب شک ہے اور   کوئی جانب  راجح  بھی نہیں ہے تو   طلاق واقع نہ ہوگی۔ 

’’فحلفه باطل أي فلا شيء علیه، قیل: أما الطلاق والعتاق؛ فإنهما لا یقعان بالشک‘‘. (غمز عیون البصائر علی الاشباه ۱:۱۹۸ القاعدة الثالثة)

’’ومنها: شک هل طلق أم لا؟ لم یقع. شک أنه طلق واحدةً أو أکثر؟ بنی علی الأقل، کما ذکر الإسبیجابي‘‘. (الاشباه والنظائر۶۴ قاعدة من شک هل فعل ام لا) الاشباه والنظائر في الفقه الحنفي۶۰ القاعدة الثالثة)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200439
تاریخ06-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں