بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گھر کا سامان کس کی ملکیت ہے

سوال

گھر کے سامان کی تقسیم میاں بیوی کے درمیان کیسے ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جہیز  میں جو کچھ بیوی لے کر آتی ہے وہ بیوی کی ہی ملکیت ہوتا ہے اور جو سامان شوہر لاتا ہے وہ شوہر کی ملکیت ہوتا ہے، البتہ جو چیزیں بطورِ تحفہ میاں بیوی یا ان دونوں کے رشتہ دار دیتے ہیں ان پر اسی کی ملکیت ہوتی ہے جس کو تحفہ دیا گیا ہو، پس گھریلو سامان کی تقسیم اسی بنیاد پر ہوگی۔ اور جو زیور لڑکے والوں کی طرف سے ملتاہے، اگر اس کے دیتے وقت کوئی صراحت نہ کی ہو تو اس میں شوہر کے خاندان کے عرف کا اعتبار ہوگا، اگر ان کے ہاں بطورِ ملکیت دینے کا رواج ہو تو وہ بیوی کی ملکیت شمار ہوگا، اگر عاریۃً دینے کا رواج ہوتو بیوی کی ملکیت نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200399
تاریخ04-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں