بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عشر کل پیداوار میں لازم ہے

سوال

میں نے اپنی زمین میں کپاس کاشت کی ہے اور اس پر جو خرچہ کیا ہے وہ میں نے   قرض لیا۔ کیا مجھے کل پیداوارکا نصفِ عشر اداکرناہوگا؟ کپاس سے وہی قرض کی رقم آمد ہوئی ہے ، بچت نہیں ہوئی۔

جواب

اگر عشری زمین سال کے اکثر حصہ میں قدرتی آبی وسائل (بارش، ندی، چشمہ وغیرہ) سے سیراب کی جائے تو اس میں عشر (یعنی کل پیداوارکا دسواں حصہ) واجب ہوتا ہے، اور اگر وہ زمین مصنوعی آب رسانی کے آلات ووسائل (مثلاً ٹیوب ویل یا خریدے ہوئے پانی (جس میں راج بہائے کا پانی بھی شامل ہے) سے سیراب کی جائے تو اس میں نصفِ عشر (یعنی کل پیداوار کا بیسواں حصہ) واجب ہوتا ہے۔ ’’عشر‘‘ (دسواں حصہ )یا ’’نصف عشر‘‘(بیسواں حصہ)کل پیداوار پر لازم ہوتا ہے، عشریانصف عشر  ادا کرنے سے پہلے قرض وغیرہ دیگر اخراجات کی رقم   الگ نہیں کی جاتی، لہذا سوال میں مذکورہ صورت میں کل پیداوار کاعشر یانصف عشر ادا کرنا لازم ہو گا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"ولاتحسب أجرة العمال ونفقة البقر، وكري الأنهار، وأجرة الحافظ وغير ذلك فيجب إخراج الواجب من جميع ما أخرجته الأرض عشراً أو نصفاً، كذا في البحر الرائق"۔(1/ 187)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200398
تاریخ04-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں