بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچے کے کپڑے بچی کو پہنانا

سوال

اگر بیٹے کے کپڑے رکھے ہیں تواس کے بعد بیٹی ہو جائے تو وہ بیٹے کے کپڑے بیٹی کو پہنا سکتے ہیں یا نہیں؟ مطلب لڑکے کے کپڑے لڑکی کو پہنا سکتے ہیں یا نہیں؟ اسلام اس کے بارے میں کیا کہتا ہے؟

جواب

  چھوٹے بچوں میں لڑکوں کے کپڑےلڑکیوں کو پہنا سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں؛ اس لیے کہ   نوزائیدہ بچوں میں لڑکے اور لڑکیوں کے کپڑوں میں فرق کرنا ضروری نہیں، البتہ جب کچھ بڑے ہوجائیں تو اس میں فرق کرنا چاہیے؛ تاکہ ابتدا ہی سے ان کی تربیت ہوجائےاور لڑکوں اور لڑکیوں میں مشابہت نہ ہو۔

الموسوعة الفقهية الكويتية (7/ 154):
’’قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلاَثٍ: عَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ وَالْمَجْنُونِ حَتَّى يُفِيقَ، وَالنَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ‘‘.
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200394
تاریخ04-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں