بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اندازہ سے زکات ادا کرنے کا حکم

سوال

 کیا اندازے سے زکات ادا کرنے سے زکات ادا ہو جاتی ہے؟ اگر نہیں تو جو اب تک اندازے سے زکات دی ہے اس کا کیا ہوگا؟ اور حساب کی صورت کیا ہوگی؟

جواب

زکات پورا حساب کر کے دینی چاہیے، اندازہ کر کے دینا مناسب نہیں ہے، اگر اندازہ کر کے زکات دی گئی اور اندازہ کم رہا تو جتنی مقدار ادا کردی گئی وہ تو ادا ہوجائے گی، لیکن جو مقدار ادا کرنے سے رہ گئی اس کا ادا کرنا ذمہ پر باقی رہ گیا، اگر بعد میں اس کو ادا کردیا گیا تو وہ بھی ادا ہو جائے گی، اگر کسی وجہ سے پورا حساب کرنا ممکن نہ ہو تو احتیاطاً زیادہ سے زیادہ کا اندازہ لگا کر زکات ادا کردینی چاہیے؛ تاکہ زکات کم ادا نہ ہو۔ اور اگر پہلے ہی اندازہ لگا کر کچھ زیادہ زکات دے دی گئی تو بھی زکات ادا ہوجائے گی۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200391
تاریخ03-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں