بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 جُمادى الأولى 1448ھ 29 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزانہ دو سو روپے کے بدلہ رکشہ کرا یہ پر چلانے کے لیے دینا

سوال

ڈرائیور کو گاڑی یا رکشہ چلانے کے لیے دینا؟ آج کل شہروں میں گاڑی یا رکشہ مالکان کرایہ پر چلانے کے لیے دیتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ مجھے 200 دینا اور باقی جتنا بچ جائے وہ تمہارا ہوگا شرعاً یہ عقد جائز ہے؟

جواب

گاڑی یا رکشہ کا مالک اگر کسی کو اپنی گاڑی یا رکشہ کرائے پر دے اور اس سے یہ طے کر لے کہ میں ایک دن کا کرایہ آپ سے دو سو روپے ( مثلاً )  روزانہ وصول کروں گا، آپ جتنا کماؤ وہ آپ کا معاملہ ہے، مجھے اس سے کوئی سرو کار نہیں ہے، تو یہ اجارہ کا معاملہ ہے اور یہ عقد شرعاً جائز ہے،  لیکن اس طرح معاملہ جائز نہیں ہےکہ جو کماؤگے اس میں سے دوسو روپے میرے ہوں گے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200388
تاریخ03-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں