بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نگرانی کی وجہ سے مقرر کیا جانے والا الاؤنس تن خواہ کا حصہ ہے یا نہیں؟

سوال

ایک شخص مثلاً  زید ایک دینی ادارہ میں ملازم ہے، ادارے کی جانب سے اس کی تن خواہ ۵۰۰۰ روپے طے کی گئی ہے، اس کے علاوہ نگرانی کی وجہ سے بطورِ الاؤنس ۱۵۰۰ روپے مزید مع قیام و طعام طے کیے گئے ہیں، اب سوال یہ کہ پندرہ سو روپے مع قیام و طعام آیا یہ زید کا حق ہے یا ادارے کی جانب سے رخصت ہے، جیسا کہ لفظِ الاؤنس سے مفہوم ہورہا ہے؟ اگر کسی وجہ سے ادارہ اس میں کمی کرنا چاہے تو اس کی اجازت ہے یانہیں؟

جواب

ادارہ کی جانب سے مذکورہ شخص کے لیے نگرانی کی وجہ سے تن خواہ کے علاوہ جو  ۱۵۰۰ روپے بطورِ الاؤنس مقرر کیے گئے ہیں وہ اس شخص کی تن خواہ کا حصہ ہونے کی وجہ سے اس کا حق ہے، مذکورہ شخص سے نگرانی کا کام لینے کے باوجود ادارہ اس الاؤنس میں کمی نہیں کرسکتا ہے۔

البتہ عرفاً الاؤنس متعلقہ ذمہ داری کی ادائیگی سے مشروط ہوتاہے، اس لیے اگر سال کے کسی مہینے یا کچھ ایام مفوضہ ذمہ داری ادا نہ کی تو ان ایام میں الاؤنس کا حق نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200376
تاریخ02-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں