بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فرضی نام کے ذریعہ طلاق دینا

سوال

اگر کوئی شخص ڈرامہ بناتے ہوئے اپنی بیوی کو اس نام سے جو نام ڈرامے میں ہے ,طلاق دے دے تو کیا طلاق واقع ہو جائے گی؟

جواب

ڈرامے  میں دی جانے والی طلاق سے مقصودریکارڈنگ اور حکایت ہوتی ہے اور دیکھنے والوں کے نزدیک بھی یہ بات معروف ہوتی ہے کہ مقصود  طلاق دینا نہیں، بلکہ ریکارڈنگ اور حکایت ہے  اورپھر جب بیوی کے علاوہ کسی اور نام سے بیوی کو طلاق دی جائے تو طلاق کے نہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا۔ البتہ  شریعت کے احکام کو اس طرح ڈرامہ بازی کے انداز میں پیش کرنا بہت خطرناک ہے۔ نیز ذی روح کی تصویر کشی شدید ضرورت کے بغیر جائز نہیں ہے، لہٰذا ڈرامے کے لیے ویڈیو ریکارڈنگ ناجائز ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200372
تاریخ02-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں