سگریٹ کا کاروبارکرنےوالے کی دعوت کھانا
سوال
|
سگریٹ کا کاروبار حرام ہے تو کیا ایسا لوگوں کے گھر کھانا کھانا جائز ہے؟ جب کہ آپ جانتے ہیں کہ جن پیسوں سے دعوت کھلائی جارہی ہے وہ سگریٹ کے کاروبار سے آئی ہے؟ |
جواب
|
سگریٹ کا کاروبار حرام نہیں؛ لہذا اس کی کمائی بھی حرام نہیں۔اگر سگریٹ کاکاروبار کرنے والا دعوت کرےتو اس کے گھر کھا نا کھانا بھی درست ہے۔ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 454): ’’(قَوْلُهُ: وَصَحَّ بَيْعُ غَيْرِ الْخَمْرِ) أَيْ عِنْدَهُ خِلَافًا لَهُمَا فِي الْبَيْعِ وَالضَّمَانِ، لَكِنَّ الْفَتْوَى عَلَى قَوْلِهِ فِي الْبَيْعِ، وَعَلَى قَوْلِهِمَا فِي الضَّمَانِ إنْ قَصَدَ الْمُتْلِفُ الْحِسْبَةَ وَذَلِكَ يُعْرَفُ بِالْقَرَائِنِ، وَإِلَّا فَعَلَى قَوْلِهِ كَمَا فِي التَّتَارْخَانِيَّة وَغَيْرِهَا. ثُمَّ إنَّ الْبَيْعَ وَإِنْ صَحَّ لَكِنَّهُ يُكْرَهُ، كَمَا فِي الْغَايَةِ. وَكَانَ يَنْبَغِي لِلْمُصَنِّفِ ذِكْرُ ذَلِكَ قُبَيْلَ الْأَشْرِبَةِ الْمُبَاحَةِ‘‘. فقط واللہ اعلم |
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

