بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کی کھال کمیشن پر جمع کرنا

سوال

کسی مدرسہ کے باہر کے(صاحب حیثیت) طالبِ علم کا کسی مدرسہ کے لیے  قربانی کی کھال میں فی کھال کے حساب سے کمیشن طے کرنا اور پھر کھال جمع کرنا کیسا ہے؟

جواب

 زکاۃ  کی طرح کمیشن پر کھالیں جمع کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ دینی اور رفاہی اداروں پر لازم ہے کہ کھالوں کی فروختگی کے بعد حاصل شدہ تمام نقدی پوری ایمان داری سے مستحقینِ زکات  تک پہنچائیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200325
تاریخ29-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں