بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مکروہ اوقات میں بچوں کی نماز کی مشق کرانا

سوال

مکاتب میں بچوں کو بوقتِ مکروہ نماز کی مشق کرانے کی اجازت ہے یا نہیں ؟حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی۔

جواب

مکروہ اقات میں  نفل اور فرض  ہر قسم کی نماز پڑھنا مکروہ ہے، خواہ بالغ  پڑھے یا نابالغ، لہذا صورتِ مسئولہ میں مکاتب  میں بچوں کو مکروہ اوقات میں نماز کی جو مشق کرائی جاتی ہے  تو اگر  اس میں باقاعدہ نماز کی نیت کرکے نماز پڑھائی جاتی ہو تو یہ جائز نہیں ہے، البتہ اگر باقاعدہ نیت کرکے نماز نہ پڑھائی جائے،  بلکہ صرف مشق کے لیے نماز کی طرح افعال واعمال کرنے کا طریقہ سکھایا جائے اور اس میں نماز کی نیت بھی نہ کی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

الفتاوى الهندية (1/ 52)
"ثلاث ساعات لا تجوز فيها المكتوبة ولا صلاة الجنازة ولا سجدة التلاوة: إذا طلعت الشمس حتى ترتفع وعند الانتصاف إلى أن تزول وعند احمرارها إلى أن يغيب إلا عصر يومه ذلك فإنه يجوز أداؤه عند الغروب. هكذا في فتاوى قاضي خان"
۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200320
تاریخ29-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں