بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بات بات پر گالیاں دینا سخت گناہ ہے

سوال

بعض لوگ بات بات پر گالیاں دیتے ہیں  غصے میں،  کبھی مذاق میں ہر ہر بات میں گالی دیتے ہیں ، اس کے گناہ کے بارے میں بتائیں۔

جواب

یہ ایک  انتہائی قبیح وشنیع  اور حدیث مبارک  کی رو سے منافقانہ طرزِ عمل ہے،ایک مسلمان کی شان سے انتہائی بعید ہے کہ اس منافقانہ طرز کو اختیار کرے ،  بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایت میں نبی اکرم ﷺ نے گالی گلوچ کو منافق کی نشانی قرار دیا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا:منافق کی چار نشانیاں ہیں۔جب بولے جھوٹ بولے،وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے،امین بنایا جائے توخیانت کرے اور جب جھگڑا ہوجائے توگالی گلوچ پر اتر آئے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200305
تاریخ29-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں