بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سوتیلی بیٹی محرم ہے

سوال

میرے دوست ایک طلاق شدہ لڑکی سے شادی کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس لڑکی کے 2 بچے پہلے ہی سے ہیں,شادی کے بعد میرے دوست ان لڑکیوں کے محرم ہوں گے؟

جواب

جب بیوی سےصحبت ہوجائے توسوتیلی بیٹی محرم ہو جاتی ہے،اس سے نکاح حرام ہے۔ لیکن آپ کے دوست کو چاہیے کہ اس کے باوجود فتنے کے اندیشے کی وجہ سے تنہائی کی حالت میں ان لڑکیوں کے ساتھ نہ رہیں۔

قال اﷲ تعالیٰ: {{حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّهٰتُکُمْ ... وَ رَبَآئِبُکُمُ الَّلاتِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ}}

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 30):
’’(وَ) حَرَّمَ الْمُصَاهَرَةُ (بِنْتَ زَوْجَتِهِ الْمَوْطُوءَةِ وَأُمَّ زَوْجَتِهِ) وَجَدَّاتِهَا مُطْلَقًا بِمُجَرَّدِ الْعَقْدِ الصَّحِيحِ (وَإِنْ لَمْ تُوطَأْ) الزَّوْجَةُ.
(قَوْلُهُ: بِنْتُ زَوْجَتِهِ الْمَوْطُوءَةِ) أَيْ سَوَاءٌ كَانَتْ فِي حِجْرِهِ أَيْ كَنَفِهِ وَنَفَقَتِهِ أَوْ لَا، ذِكْرُ الْحِجْرِ فِي الْآيَةِ خَرَجَ مَخْرَجَ الْعَادَةِ أَوْ ذُكِرَ لِلتَّشْنِيعِ عَلَيْهِمْ كَمَا فِي الْبَحْرِ. وَاحْتَرَزَ بِالْمَوْطُوءَةِ عَنْ غَيْرِهَا، فَلَا تَحْرُمُ بِنْتُهَا بِمُجَرَّدِ الْعَقْدِ وَفِي ح عَنْ الْهِنْدِيَّةِ أَنَّ الْحُلْوَةَ بِالزَّوْجَةِ لَا تَقُومُ مَقَامَ الْوَطْءِ فِي تَحْرِيمِ بِنْتِهَا. اهـ.
قُلْت: لَكِنْ فِي التَّجْنِيسِ عَنْ أَجْنَاسِ النَّاطِفِيِّ قَالَ فِي نَوَادِرِ أَبِي يُوسُفَ إذَا خَلَا بِهَا فِي صَوْمِ رَمَضَانَ أَوْ حَالَ إحْرَامِهِ لَمْ يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِنْتَهَا. وَقَالَ مُحَمَّدٌ يَحِلُّ فَإِنَّ الزَّوْجَ لَمْ يُجْعَلْ وَاطِئًا حَتَّى إذَا كَانَ لَهَا نِصْفُ الْمَهْرِ. اهـ. وَظَاهِرُهُ أَنَّ الْخِلَافَ فِي الْخَلْوَةِ الْفَاسِدَةِ، أَمَّا الصَّحِيحَةُ فَلَا خِلَافَ فِي أَنَّهَا تُحَرِّمُ الْبِنْتَ تَأَمَّلْ‘‘.
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200272
تاریخ27-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں