دلی اور ذہنی طور پر چھوڑ چکاہوں کہنے سے طلاق کا حکم
سوال
میری بیوی سے کچھ ناراضگی ہوئی ہے، جس کے بعد میں نے اپنے گھر والوں کو کہا کہ میں دلی اور ذہنی طور پہ بیوی کو چھوڑ چکا ہوں، لیکن ان الفاظ سے طلاق کا ارادہ نہیں بلکہ اس سے بیزاری ظاہر کرنا مقصد تھا، راہ نمائی فرمائیں کہ ان الفاظ کا کیا حکم ہے؟
جواب
جب آپ نے اپنے گھر والوں سے یہ کہا کہ میں دلی اور ذہنی طور پہ بیوی کو چھوڑ چکا ہوں تو اس سے آپ کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، نکاح بدستور قائم ہے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144001200266
تاریخ26-09-2018

