بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی عقد کی صراحت کے بغیر بیٹوں کا والد کے کاروبار میں سرمایہ لگانا

سوال

باپ کے کاروبار میں بیٹوں نے اپنا سرمایہ لگایا اور سرمایہ لگاتے ہوئے کسی بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ کس حیثیت سے پیسہ لگایا ہے، آیا شریک ہوں گے یا قرض دیا ہے یا ہبہ کیا ہے؟  بعد میں آپس میں جھگڑے ہوگئے اور اب وہ الگ ہونا چاہ رہے ہیں تو کیا صورت ہوگی؟  نیز ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ انہوں نے کتنا سرمایہ باپ کے کاروبار میں لگایا؟

جواب

 صورتِ مسئولہ میں جب بیٹوں نے اپنے والد کے کاروبار میں کسی قسم کی صراحت کے بغیر سرمایہ لگایا تو یہ ان کی طرف سے تبرع واحسان ہوگیا، تمام کاروبار والد ہی کا شمار ہوگا۔

تنقيح الفتاوى الحامدية  میں ہے:

"المتبرع لا يرجع بما تبرع به على غيره، كما لو قضى دين غيره بغير أمره". (2/391، کتاب المدینات،  ط؛ قدیمی)۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200261
تاریخ26-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں