بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا مقتدی کے لیے تکبیرات کہنا ضروری ہے؟

سوال

کیاجماعت کی نماز میں امام کی تکبیرات کےساتھ مقتدی کا کہنابھی ضروری ہے؟

جواب

واضح رہے کہ تکبیرِتحریمہ کے علاوہ باقی تمام تکبیرات کہنا امام و مقتدی ہر ایک کے لیے مسنون ہے اور جان بوجھ کر تکبیرات نہ کہنا ترکِ سنت کی وجہ سے گناہ  کا باعث ہے  جب کہ تکبیرِتحریمہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی؛  لہذا صورتِ مسئولہ میں تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ باقی تکبیرات  بھی مقتدی کو کہنی چاہییں، جان بوجھ کر  نہیں چھوڑنی چاہییں۔

حلبی کبیر میں ہے:

(ولا دخول في الصلاة إلا بتكبيرة الإفتتاح) لإجماع الأمة علی  ذلك في كل زمان، فإنهم قد أجمعوا علي أن لا دخول في الصلاة إلا بتكبيرة الإفتتاح. (تكبيرة الإفتتاح، ص: ٢٨٥، سهيل اكيدمي)

البحر الرائق میں ہے:

"ان المراد به تكبيرة الإفتتاح و لأن الأمر للايجاب و ما وراءها ليس بفرض". (صفة الصلاة، ١/ ٢٩٠، ط: سعيد).

حلبی کبیر میں ہے:

و ثاني عشرها: ( التكبيرات التي يؤتي بها خلال الصلاة) عند الركوع و السجود و الرفع منه و النهوض من السجود او القعود الي القيام و كذا التسميع و نحوه. (فصل في السنن، ص: ٣٨٢، ط: سهيل اكيدمي).

حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی میں ہے:

"ترك السنة لا يوجب فساداً و لا سهواً، بل اساءةً لو عامداً غير مستخف. (فصل في بيان سننها، ص: ٢٥٦، ط: قديمي)۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200245
تاریخ24-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں