بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں نماز کے بعد اپنی مدد کی اپیل کرنا

سوال

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کچھ غریب ، مستحق لوگ نماز با جماعت ادا کرتے ہیں، اور وہیں مسجد میں نماز کے بعد اپنی مدد کی اپیل کرتے ہیں اللہ کے نام پر ۔ تو مسجد انتظامیہ انہیں مسجد سے باہر جانے کا کہتی ہے ایسے میں کیا حکم ہے ؟

جواب

آج کل مساجد میں فرض نمازوں کے بعد جس طرح  اعلان کرکے مانگا جاتا ہے، اس سے نمازیوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے اور مسجد کا ماحول بھی خراب ہوتا ہے؛ لہذا اس طرح اپنی ذاتی ضرورت کے لیے مسجد میں اعلان کرنا جائز نہیں ہے۔اس موقع پر انتظامیہ کا ان کو مسجد سے باہر جانے کی تلقین کرنا درست ہے، لیکن  مسجد میں شور و شغب  نہیں ہوناچاہیے۔

البتہ ایسا مستحق آدمی جس کے پاس ایک دن کا کھانا بھی نہ ہو اس کے لیے  جائز ہے کہ وہ اپنے  لیےسوال کرسکتا ہے،  مگر اس کو  بھی چاہیے کہ مسجد سے باہر سوال  کرے ۔ باقی  پیشہ ور گداگروں کا مانگنا اور ان کو دینا دونوں غلط ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200228
تاریخ24-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں