بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تندرست آدمی کا فدیہ دینا

سوال

ایک بندہ بالکل تندرست ہے کوئی بیماری نہیں ہے، لیکن وہ رمضان المبارک کے روزے نہیں رکھتا جان بوجھ کر ، کیا وہ اس کے بدلے فدیہ دے سکتا ہے؟

جواب

جی نہیں!  جب آدمی تن دُرست ہے تو  اس پر  روزے رکھنا فرض ہے، صحت مند آدمی کا روزے چھوڑنا گناہ کبیرہ ہے، مذکورہ شخص پر لازم ہے کہ توبہ و استغفار کرے اور تمام روزوں کی قضا کرے، اس حالت میں فدیہ دینے سے فرض ذمے سے ادا نہیں ہوگا۔

" فالشیخ الفاني الذي لا یقدر علی الصیام یفطرویطعم لکل مسکیناً کما یطعم في الکفارة".  (الفتاوى الهندية، الأعذار التي يبيح الإفطار، (ج:۱ ص: ۲۰۷) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200207
تاریخ22-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں