بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فکرِ شاہ ولی اللہ  نامی تنظیم کے افکار کے حامل  افرادکےپیچھےنماز پڑھناجائز ہے یا نہیں؟

سوال

فکرِ شاہ ولی اللہ  نامی تنظیم کے افکار کے حامل  افرادکےپیچھےنماز پڑھناجائز ہے یا نہیں؟

جواب

تنظیم "فکرِشاہ ولی اللہی"  سے منسلک افرادجنت دوزخ،عقیدہ شفاعت،آبِ کوثر،حیاتِ عیسی علیہ السلام اورظہورِ مہدی علیہ الرضوان وغیرہ سے متعلق اہلِ سنت والجماعت کے نظریات سے ہٹ کرجداعقائدونظریات رکھتے ہیں؛ لہذا یہ تنظیم اوراس سے وابستہ افراداپنے مخصوص خیالات ونظریات،تعبیرات واصطلاحات کی بنا  پراہلِ حق علماء اوراہلِ سنت والجماعت سے جدا ہیں؛  لہذا اس تنظیم میں شمولیت یااس کے عقائد ونظریات کواپنانا اہلِ سنت، اہلِ حق کے راستہ سے انحراف ہے۔اور ایسے عقائد ونظریات کے حامل افراد کی اقتدا  میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے،  جب تک کہ وہ مذکورہ تنظیم اور اس کے عقائد ونظریات سے برات وبیزاری کا اظہار نہ کریں ۔

"تنظیم فکرِ ولی اللہی"  سے متعلق مفصل فتویٰ کے لیے ملاحظہ فرمائیں "فتاویٰ بینات"  جلد اول صفحہ450 تا 466 مطبوعہ مکتبہ بینات بنوری ٹاؤن کراچی۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144001200206
تاریخ22-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں