بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اہل تشیع کے ہوٹل میں کھانا کھانا

سوال

۱۔ کیا شیعہ کے ساتھ کھانا پینا اور ان کے ہوٹل یا دوکان وغیرہ سے کوئی چیز لینا جائز ہے یا نہیں؟

۲۔ محرم کے مہینے میں جو لوگ کھانے پینے کی چیزیں گھروں میں لے کر آتے ہیں، ان میں بعض صحیح العقیدہ مسلمان بھی ہوتے ہیں تو ایسے کھانے پینے کی چیزوں کا کیا کرنا چاہیے؟

جواب

1۔ اہلِ تشیع  کےساتھ  ملنا اوراخلاق سے پیش آنا جائز ہے، عام احوال میں ان کی دعوت قبول کرنا اور  کھاناکھانا بھی جائز ہے، البتہ ان کی مذہبی تقریبات میں شریک ہوکر ان کے ساتھ کھانا کھانا اور دوستانہ رکھنا جائز نہیں ہے، یہی حکم ان کے ہوٹل میں کھانا کھانے کا ہے۔

2۔ ان ایام مخصوصہ میں خاص طور پر کھانے پینے کی اشیاء بنانااور تقسیم کرنا بدعت ہے،لہذا ان کے کھانے پینے سے اجتناب کرناچاہیے۔کربلاکے شہداء اور بزرگانِ دین کو ایصالِ ثواب کرنا مقصود ہوتو اس کے لیے کسی مہینے یا دن کاانتظارنہیں کرناچاہیے، بلکہ کسی بھی دن جومیسر ہوصدقہ کرکے اس کا ثواب بخش دیاجائے۔(کفایت المفتی،1/237، ط:دارالاشاعت-الاعتصام للشاطبی،1/39،ط:بیروت)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144001200204
تاریخ22-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں