بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جوبلی فیملی تکافل میں حصہ لینے کا حکم

سوال

جوبلی فیملی تکافل میں حصہ لینا کیسا ہے؟

جواب

جوبلی  فیملی تکافل" اور  موجودہ دور میں اس جیسی جتنی دیگر تکافل پالیسیاں ہیں، ان میں بھی وہی خرابیاں ( یعنی سود، جوا اور غرر) پائی جاتی ہیں جو   انشورنس  میں پائی جاتی ہیں؛ اس لیے انشورنس کی طرح کسی بھی ادارے کا کسی بھی قسم کا تکافل کرانا  جائز نہیں ہے۔ تکافل کے عدمِ جواز کے  بارے میں تفصیلی فتوی (فتوی نمبر :  143909201347)وجوہات سمیت ہماری ویب سائٹ پر شائع ہو چکا ہے اسے دیکھ لیں۔ فقط واللہ اعلم
درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

http://www.banuri.edu.pk/readquestion/%D9%BE%D8%A7%DA%A9-%D9%82%D8%B7%D8%B1-%D8%AA%DA%A9%D8%A7%D9%81%D9%84-%DA%A9%DB%8C-%D9%BE%D8%A7%D9%84%DB%8C%D8%B3%DB%8C-%D8%AE%D8%B1%DB%8C%D8%AF%D9%86%D8%A7-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D8%B3-%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D9%84%D8%A7%D8%B2%D9%85%D8%AA-%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92-%DA%A9%D8%A7-%D8%AD%DA%A9%D9%85/12-07-2018

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200181
تاریخ21-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں