بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اخوت فاؤندیشن سے قرض لینا

سوال

’’اخوت‘‘ نام سے جو ادارہ قائم ہے اور عوام کو سود سے پاک قرض دے رہاہے، اس کے متعلق راہ نمائی فرما دیں، سننے میں آیا ہے وہ پیسے زکات کے پیسے ہوتے ہیں، کیا ایسے پیسے قرض پر لیے جا سکتے ہیں؟  اور کیا واقعی پیسے زکات کے ہوتے ہیں ؟

جواب

’’اخوت فاؤندیشن‘‘  نامی فلاحی ادارہ جو ضرورت مندوں کو قرضہ حسنہ کے نام سے قرضہ دیتا ہے، اس  کی آمدن کا طریقہ کار کیا ہے؟ اس کی تفصیل معلوم نہیں ہوسکی، لہذا بہتر ہوگا کہ مذکورہ ادارہ کا طریقہ تمویل معلوم کرکے لکھ کر سوال کریں، اس کے بعد ہی حتمی جواب دیا جاسکتاہے۔

البتہ اگر واقعۃً مذکورہ ادارہ زکات فنڈ میں حاصل ہونے والی رقوم سے قرضہ حسنہ دیتا ہو جیساکہ سائل نے لکھا ہے تو اس صورت میں زکات کی رقم سے قرضہ دینا اور لینا دونوں جائز نہیں ہوگا، اور نہ ہی قرضہ دینے سے زکات ادا ہوگی؛ کیوں کہ زکات کی ادائیگی صحیح ہونے کے لیے زکات کے مستحق کو مالک بناکر رقم دینا شرعاً ضروری ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200157
تاریخ19-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں