بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیلنس ختم ہونے پر سم کمپنی سے ایڈوانس بیلنس لینے کی سہولت

سوال

کیافرماتےہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ:

موبائل فون پرایڈوانس لون (قرضہ) لیناجائزہےیانہیں? جب کہ اس میں تقریباً تین یا چار روپےٹیکس کی کٹوتی ہے.مثلاً:  بیس کےایڈوانس لینےمیں تقریباً چوبیس یا تیس روپے کی کٹوتی کرتی ہےتوکیایہ سود میں داخل ہےیانہیں ؟ بعض لوگوں سے سنا ہےکہ یہ سود میں داخل ہے۔ مہربانی فرماکر مفصل ومدلل جواب دیا جائے عین نوازش ہوگی!

جواب

موبائل کمپنی اگرزائد رقم خدمت مہیا کرنے کے عوض وصول کرتی ہے (یعنی سروس چارجز کی مد میں زائد رقم لیتی ہے) تو ایڈوانس لینا جائز ہے، بیلنس ختم ہونے کے بعد بعض موبائل کمپنیاں جو مسیج بھیجتی ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کمپنی ایڈوانس کی سہولت دے کر  اس پر جو کچھ رقم کاٹتی ہے وہ سروس چارجز کی مد میں کاٹتی ہے، لہذا ایسی موبائل کمپنیوں سے ایڈوانس بیلنس کی سہولت حاصل کرنا جائز ہے، تاہم اگر کوئی شخص  احتیاط کے درجہ میں اس سے بچتا ہے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔

اور اگر کمپنی بطورِ قرض دے کر زائد رقم وصول کرے تو پھر ایڈوانس لون لینا ناجائز ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200155
تاریخ19-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں