بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زیر ناف بال کاٹنے سے عاجز کا حکم

سوال

 میرا نانا ایسا بوڑھا ہو گیا کہ خود زیر ناف صاف نہیں کر سکتا اور نانی بھی زندہ نہیں تو کیا  کسی دوسرےشخص سے زیر ناف بال صاف کر ا سکتے ہیں ؟ یا حلق عانہ کا حکم ساقط ہو جائے گا ؟ بحوالہ قرطاس فرمائیں۔

جواب

آپ کے نانا اگر بڑھاپے کی وجہ سے خود زیرناف بال صاف نہیں کرسکتے اور ان کی اہلیہ بھی حیات نہیں تو وہ بامر مجبوری کسی اورسے زیر ناف بال صاف کراسکتے ہیں، لیکن اس شخص پر لازم ہوگا کہ حتی الامکان ستر دیکھنے سے گریز کرے۔جیسا کہ فتاوی ہندیہ میں ہے:

"فِي جَامِعِ الْجَوَامِعِ حَلْقُ عَانَتِهِ بِيَدِهِ وَحَلْقُ الْحَجَّامِ جَائِزٌ إنْ غَضَّ بَصَرَهُ، كَذَا فِي التَّتَارْخَانِيَّة". (5 / 358،رشیدیہ)

نیز حلق عانہ کا حکم ساقط نہیں ہوگا۔فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200148
تاریخ18-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں