بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خواتین کے لیے اجنبی مرد مہمانوں سے بچا ہوا کھانا کھانے کا حکم

سوال

مہمانوں سے جو کھانا بچ جاتا ہے، روٹی وغیرہ،  اس کا کھانا گھر والوں کے لیے کیساہے؟

جواب

مہمانوں میں سے اجنبی (غیر محرم) مردوں کا کھانا گھر کی عورتوں کے لیے (اور اجنبیہ عورتوں سے بچا ہوا کھانا مردوں کے لیے ) اگر فتنے کا اندیشہ ہو  تو مکروہ ہے۔ورنہ اگر مہمان کا علم ہی نہ ہو کہ کون آیا تھا اور نہ اس کو کھاتے ہوئے اس کا خیال آئے اور نہ وہ کھائی یا پی جانے والی چیز اجنبی کی جوٹھی ہو (مثلاً: گلاس میں بچا ہوا پانی اور لعاب لگا ہوا چمچہ وغیرہ) تو اس میں حرج نہیں۔

 الدر المختار مع رد المحتار : "یکره للمرأة سؤر الرجل وسؤرها له" ( در)

وفي الرد : "وقال الرملي : یجب تقییده بغیر الزوجة والمحارم". (۹/۶۱۱، کتاب الحظر والإباحة ، فصل في البیع) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200071
تاریخ15-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں