بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کا گوشت غیر مسلم کو دینے کا حکم

سوال

قربانی کا گوشت غیر مسلم کو دینا جائز ہے؟

 

جواب

غیر مسلم کو قربانی کا گوشت بلا اجرت دینا جائز ہے، البتہ غریب مسلمانوں کو دینے کا ثواب زیادہ ہے، کیوں کہ یہ مستحب ہے؛ اس لیے قربانی کا گوشت مسلمانوں  کو دینے کی کوشش کرنی چاہیے، اگر کوئی مصلحت ہو تو غیر مسلم کو قربانی کا گوشت دے سکتے ہیں، مگر بہتر نہیں ہے ؛ کیوں کہ مسلمانوں میں بھی غرباء کی کمی نہیں ہے۔

الفتاوى الهندية (5/ 300)

"ويستحب أن يأكل من أضحيته ويطعم منها غيره، والأفضل أن يتصدق بالثلث، ويتخذ الثلث ضيافةً لأقاربه وأصدقائه، ويدخر الثلث، ويطعم الغني والفقير جميعاً، كذا في البدائع. ويهب منها ما شاء للغني والفقير والمسلم والذمي، كذا في الغياثية". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200040
تاریخ13-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں