بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مال کے علاوہ کسی چیز سے جرمانہ لینا

سوال

مال کے علاوہ کسی دوسری چیز کے ذریعہ جرمانہ لے سکتے ہیں ؟

جواب

مالی جرمانہ شرعاً جائز نہیں ہے، مالی جرمانہ کے ناجائز ہونے کامطلب یہ نہیں ہے کہ صرف پیسوں کے ذریعے جرمانہ لینا ناجائز ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ  کوئی بھی مملوکہ چیز  خواہ وہ سامان ہو یا نقدی ہو، یا مویشی وغیرہ ، غرض کوئی بھی چیز جو قیمت رکھتی ہو اس کو جرمانہ میں لینا تعزیر بالمال کے زمرے میں آتا ہے۔

سوال کا مطلب اگر کچھ اور ہے تو اس کی تفصیل لکھ کر دوبارہ جواب معلوم کرلیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200019
تاریخ12-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں