بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والد یا والدہ کے ماموں ، چچا کی اولاد سے نکاح کا حکم

سوال

1. والد یا والدہ کے کزن سے شادی ہوسکتی ہے؟ جیسا کہ والد کے مامو ں یا چاچو کی بیٹی سےیا بیٹے سے نکاح ہوسکتاہے؟

 2. بکر کےسگے تایا زاد بھائی ہیں کیا بکر کا نکاح ان کی بیٹی سے ہوسکتاہے؟ 

جواب

1۔جی ہاں ! والد یاوالدہ کے ماموں یا چچا کی اولاد سے نکاح جائز ہے، بشرطیکہ رضاعت کی بنا پر حرمت نہ ہو۔

2۔جائز ہے، بشرطیکہ رضاعت کی بنا پر حرمت نہ ہو۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200006
تاریخ11-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں