بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی ایک وارث کا حصہ وصول کر کے دستبردار ہو جانے کے بعد دوبارہ تقسیم کا مطالبہ کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام بیچ اس مسئلہ کے؟ جائیداد کی ملکیت دادی کی تھی، کچھ عرصہ بعد پوتوں نے متوقع حصہ ملنے کی امید پر آپس میں تقسیم اس طرح کی کہ ایک کو کچھ رقم دے کر فارغ کردیا گیا . اور باقیوں نے جائیداد ملنے کے بعد آپس میں بانٹ لی، اب تقریباً اٹھارہ سال بعد وہ بھائی جس کو رقم دی گئی تھی، نے مطالبہ کر دیا ہے کہ پہلی تقسیم درست نہیں ہوئی تھی. اب دوبارہ نئے سرے سے تقسیم کی جائے. پوچھنا یہ ہے کہ کیا واقعی اٹھارہ سال پہلے والی تقسیم اس بھائی کے حق میں درست نہ تھی؟ اگر درست نہ تھی تو اب تقسیم کی درست شکل کیسے ہو گی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً مذکورہ پوتے ہی دادی کے مال کے وارث تھے اور انہوں نے باہمی رضامندی سے تقسیم کر لی تھی تو  جس بھائی نے اپنا حصہ پہلے ہی وصول کر لیا تھا اگر اپنا حصہ وصول کرنے کے بعد وہ اپنے حصے سے دست بردار ہو گیا تھا اور  اس سے یہ معاہدہ ہوا تھا کہ وہ اب اپنے حصے کا مطالبہ نہیں کرے گا تو اب اس معاہدہ کی رو سے اس بھائی کا تقسیم کے نادرست ہونے کا دعویٰ نہیں سنا جائے گا۔اگر دادی حیات تھیں  اور اس کی موجودگی میں پوتوں نے تقسیم کی اور دادی اس پر رضامند نہیں تھیں تو تقسیم باطل ہے اور دوبارہ تقسیم لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909202347
تاریخ09-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں