بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

موجودہ نظامِ حکومت اور طرزِ انتخابات کی شرعی حیثیت

سوال

جس طرزِ حکومت کے انتخاب میں امیدوار خود عوام کی نمائندگی کے نام پر لیڈر بننا چاہتا ہو. اور اس کے لیے وہ ایک بڑی رقم بھی خرچ کرتا ہو جب کہ وہ شخص عوام کی فلاح و بہبود کے لیے عموماً  کوئی پیسہ خرچ نہیں کرتا. اور جو لوگ منتخب ہوکر اسمبلیوں میں چلے جاتے ہیں تو وہ کئی قسم کی بدعنوانیوں کے ذریعے خرچ کردہ رقم کا کئی گنا زیادہ وصول کرتے ہیں. ظلم اور ناانصافی کرتے ہیں جیسا کہ ہم پاکستان میں ہمیشہ سے دیکھتے چلے آ رہے ہیں ایسے نظام حکومت اور طرز انتخاب کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

موجودہ نظامِ حکومت اور طرزِ انتخاب چوں کہ غیروں سے لیا گیا طریقہ ہے؛ اس لیے اس میں بہت سے غیر شرعی امور اور خامیاں موجود ہیں ،  تاہم اگر کوئی امیدوار دین اور اہلِ دین کی حفاظت اور دفاع کی نیت سے ممکنہ حد تک مذکورہ خرابیوں سے بچتے ہوئے اس نظام میں شامل ہوکر اسمبلی میں آتا ہے تو اس کی گنجائش ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909202323
تاریخ08-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں