بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پلاستر پر مسح کرنے کا حکم

سوال

اگر کسی کے پاؤں پر پلاستر ہے تو وہ شخص غسل اور وضو میں اس پر مسح کیسے کرے؟ کیا جس طرح موزوں پر اوپری حصے پر مسح کرتے ہیں ویسے ہی کریں گے یا نہیں؟

جواب

اگر کسی شخص کے پاؤں پر پلاستر ہو تو جتنا حصہ وضو میں دھونا ضروری ہے اتنے حصے پر مسح کرے (یعنی گیلا ہاتھ پھیرے)، یہ مسح پاؤں دھونے کے قائم مقام ہوجائے گا۔ پاؤں کی اوپر کی جانب صرف تین انگلیاں تر کرکے پھیرنا کافی نہیں ہوگا۔

"المحيط البرهاني في الفقه النعماني" (1/ 184):

"وإذا انكسر عضو من أعضائه، وهو محدث فشد عليه العصابة، ثم توضأ ومسح على العصابة جاز؛ لأن المسح على العصابة بمنزلة غسل ما تحتها". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909202300
تاریخ07-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں