بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لینڈ ڈپارٹمنٹ والوں کا عوام کا مال بیچنے کا حکم

سوال

" لینڈ ڈپارٹمنٹ"  والے جومال ٹینڈر کرتے ہیں، اسے خریدنا جائز ہے کیا؟ جب کہ وہ عوام کا مال ہوتا ہے جو وہ ڈپارٹمنٹ اٹھا کرلے جاتا ہے، اور پھر اس پر جرمانہ ہوتاہے وہ جرمانہ کوئی نہیں دےپاتا تو اس کو وہ بیچتا ہے ٹینڈر کی صورت میں؟

جواب

واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ  میں مسلمان کی جان اور مال کا بہت خیال کیا  رکھا گیا ہے، اور کسی کی جان یا مال کو بلا حق تلف کرنا نا جائز قرار دیا ہے، نیز کسی کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں تصرف کرنا یا اس کو بیچنا بھی روا نہیں رکھا۔ لہذا لینڈ ڈپارٹمنٹ والے جو مال اٹھا کر لے جاتے ہیں اگر وہ کسی حق کے بغیر  ہی اٹھالے جاتے ہوں اور اس پر نا حق جرمانہ لگاتے ہوں اور جرمانہ نہ ملنے کی صورت میں اس کو ٹینڈر کر دیتے ہوں تو ایسی اشیاء کاخریدنا جائز نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909202277
تاریخ05-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں